قرآن
ﮍ
ﰹ
ﮍ
ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ٢ ٢
ﭛ ﭜ ٣ ٣ ﭞ ﭟ ﭠ ٤ ٤
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ٥ ٥ ﭧ
ﭨ ﭩ ٦ ٦ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ
ﭲ ﭳ ٧ ٧
ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٢ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ٣ مَٰلِكِ يَوۡمِ ٱلدِّينِ ٤
گویا اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرما رہے ہیں :اے میرے بندو!اگر تم ذاتی اور صفاتی کمالات کی بنیاد پر حمد وستائش اور عظمت وبڑائی کرنا چاہتے ہو تو میری تعریف وتوصیف بیان کرو، اس لئے کہ میں ہی(ٱللَّهِ)ہوں۔ اگر تعریف وتعظیم کی وجہ احسان وکرم ،پرورش و دیکھ بھال اور بخشش و انعام ہے تو میں ہی(رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ)یعنی سارے جہانوں کا رب ہوں۔اور اگر یہ مستقبل میں کسی امید اور خواہش کے لئے ہو توبیشک میں (ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ) بھی ہوں،یعنی بےانتہا رحمت والا اور نہایت مہربان ہوں، اور اگر یہ حمد وتعظیم خوف کی وجہ سے ہے تو میں ہی روز جزاء کا مالک و مختاربھی ہوں۔ (الألوسی:۱؍۸۶)
سوال:سورۂ فاتحہ کے آغاز میں مذکور چار اوصاف کس طرح دلالت کرتے ہیں کہ تمام ہی حمد وثناء کی مستحق ذات اللہ کی ہے؟
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ١ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٢ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ٣ مَٰلِكِ يَوۡمِ ٱلدِّينِ ٤ إِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ ٥ ٱهۡدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلۡمُسۡتَقِيمَ ٦
چونکہ اللہ سے صراط مستقیم کی ہدایت مانگنا سب سے عظیم الشان طلب ہے، اور اس کا مل جانا سب سے عالی شان تحفہ ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے (خود)اپنے بندوں کو اپنے سے مانگنے کا سلیقہ سکھایااور انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے رب سے مانگتے وقت پہلے اس کی حمدوثناء اور بزرگی بیان کریں،پھر اپنی بندگی اور توحید کا ذکر کریں (پھر اپنا سوال پیش کریں)۔پس اپنے مقصدتک پہنچنے کے لئے یہ دو وسیلے ہیں:اول:ذات باری تعالیٰ کے اسماء وصفات کا وسیلہ اختیار کرنا۔
3. دوم:اس کی بندگی کا وسیلہ اختیار کرنا۔ ان دونوں وسیلوں کے ہوتے ہوئے دعا رد ہونے کا بہت کم امکان ہے۔(ابن القیم:۱؍۳۶)
سوال:مذکورہ آیتوں میں دعا کی قبولیت کے دووسیلے مذکور ہیں،وہ کیاہیں؟
إِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ ٥
عبادت کے بعد استعانت (طلبِ مدد)کا ذکر كيوں کیا، حالانکہ عبادت کے معنی میں استعانت بھی داخل ہے؟اس کا سبب یہ ہے کہ بندہ اپنی تمام عبادات میں اللہ تعالیٰ کی مددکا محتاج ہے ،کیونکہ اگر اللہ اس کی مدد نہ کرے تووہ اپنی چاہت سےنہ تو احکامات پر عمل کرسکے گا ، اور نہ ہی ان چیزوں سے بچ سکے گا جن سے دوررہنے کا حکم ہے ۔(السعدی:۳۹)
سوال:استعانت،عبادت کی ایک قسم ہے توپھر اللہ تعالیٰ نے عبادت کے بعداستعانت کا الگ سے ذکر کیوں کیا؟جبکہ عبادت کا مفہوم استعانت اور دیگر اقسامِ عبادت کو شامل ہے؟
إِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ ٥
عبادت عاجزی و انکساری کا سب سے بلند مقام ہے،اسے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے لئے کرنا شرعی طور پر جائز ہے نہ عقلی طور پر،کیونکہ وہی اس کا حقدار ہے۔(یہ حق یونہی نہیں ہے) بلكہ اس لئے کہ زندگی اور وجودجیسی عظیم ترین نعمتوں اور ان سے وابستہ تمام چیزوں کاعطاکرنے والا وہی ہے ۔(الألوسی:۱؍۸۶)
سوال:عبادت کا حق صرف اللہ ہی تک محدودکیوں ہے؟
إِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ ٥ ٱهۡدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلۡمُسۡتَقِيمَ ٦
(نَعۡبُدُ)میں “جمع کے نون”کا لانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نمازکی اصل بنیاد اجتماعیت ہے۔ (البقاعی:۱؍۱۷)
سوال:سورۂ فاتحہ میں عبادت ،استعانت اور دعاکے لئےجمع کے صیغے(نَعْبُدُ)(نَسْتَعِيْنُ)(اِهْدِنَا) کیوں لائے گئے؟
ٱهۡدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلۡمُسۡتَقِيمَ ٦
( ٱهۡدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلۡمُسۡتَقِيمَ ):ہدایت کی ضرورت ،رزق ونصرت کی ضرورت سے کہیں بڑھ کر ہے ۔بلکہ ان دونوں میں کوئی مقابلہ ہی نہیں۔اس لئے کہ بندہ جب ہدایت یاب ہوگا تو متقی لوگوں(اللہ سے ڈرنے والوں)میں شامل ہوجائیگا، اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے ہر تنگی اور مصیبت سے چھٹکارے کا راستہ پیدا کردیتا ہے۔اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔(ابن تیمیہ:۱؍۱۱۶)
سوال:ہدایت کی حاجت ،رزق ونصرت کی حاجت سے زیادہ کیوں ہے؟
ٱهۡدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلۡمُسۡتَقِيمَ ٦
اس دارِ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لئے جوراستہ مقرر فرمایا ہے ،بندہ اس پر جس قدر ثابت قدم رہے گا،اسی قدر آخرت میں جہنم کے اوپر موجودپل صراط پر اس کے قدم جمے رہیں گے، چنانچہ دنیا میں اس کی جورفتارصراط مستقیم پر چلنے كی ہو گی وہی رفتارکل قیامت کے دن پل صراط پر بھی ہوگی، چنانچہ لوگوں میں سے کچھ ایسے ہوں گے جو برق رفتاری سے گذرجائیں گے، اورکچھ لوگ پلک جھپکانے کی مانند گذریں گے…لہٰذا بندے کو چاہئے کہ وہ دونوں جہاں کے راستوں پر یعنی پل صراط اور صراط مستقیم پر اپنی چال ورفتار کے بارے میں اچھی طرح غور کرے۔ كيونكه دونوں راستے ايك جيسے هيں، اور ان پر چلنے كا انداز بھي ايك جيسا هے۔اللہ کا فرمان ہے:(ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ )(سورۂ نمل:۹۰)تمہیں تومحض تمہارے اپنے اعمال کا بدلہ دیا جارہا ہے۔(ابن القیم:۱؍۳۵)
سوال:بندے کا دنیا میں صراط مستقیم پر جمے رہنا اور آخرت میں پل صراط پر اس کی چال ورفتار ،ان میں کیا تعلق ہے؟